گھر گھر بجلی کا کام کرنے والی صوبہ جموں کی پہلی خاتون الیکٹریشن
ڈوڈ ہ کی انجینئر شبنم نے الیکٹرک فیلڈ میں کیرئیر کی شروعا ت کر کے دیگر لڑکیوں کو بھی دکھائی روزگار کی نئی رہ

ایم شفیع میر+دانش اقبال

جموں// کہتے ہیں ہر مرد کی کامیابی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اور جب یہی عورت کامیابیوں کی سیڑھیاں سر کرنے کیلئے خود ہی کمر بستہ ہوکر میدان میں آجائے تو پھر بلندیوں کے اُفق پر جانے کیلئے اُسے کون روک سکتا ہے؟ یوں تو لڑکیاں مختلف شعبہ میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوا کر اپنا مقام بنانے میں کہیں بھی پیچھے نہیں رہتی ہیں لیکن صوبہ جموں کے ضلع ڈوڈہ سے تعلق رکھنے والی ایک بیٹی شبنم نے ایک ایسے شعبے میں آکر اپنا کئیریر بنانے کی شروعات کی کہ اک عام انسانی کی سوچ بھی اِس جانب نہیں جا سکتی ہے۔انجینئر شبنم جموں کے مختلف علاقوں میںالیکٹریشن کاکام کرنے والی پہلی خاتون کے طور پراُبھری ہے اوراسے سوشل میڈیاپربڑے پیمانے پرپذیرائی مل رہی ہے۔شبنم جس کے والدکاانتقال ہوچکاہے کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ جموں میں مقامی لوگوں کے گھر گھر بجلی فٹنگ کا کام کر رہئ ہے ۔شبنم کےمطابق وہ اِس شعبے کیساتھ بڑے ہی جو ش و خروش کیساتھ جڑی ہے اور اِس شعبے میں اپنا مستقبل بنانے کی جستجو میں لگی ہے ،شبنم نے کہا کہ وہ اپنا اور اپنے گھر کا سارا خرچہ اِس کام کاج سے پورا کر رہی ہے اور پراُمید ہے کہ یہی شعبے اُس کے مستقبل کو تانباک بنائے گا۔شبنم کا کہنا تھا کہ ہمیں اسی شعبے میں اپنی قسمت آزمائی کرنی چاہیے جس میں ہماری مکمل طور دلچسی ہواور والدین کو بھی چاہئےت کہ وہ اپنے بچوں کو ہر اُس شعبے میں طبع آزمائی کرنے کی اجازت دیں جس میں بچوں کی دلچسپی ہوتی ہے ۔شبنم نے اپنی والدہ اور اپنے بھائی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج اگر میں اِس شعبے میں اپنے  مستقبل روشن دیکھ رہی ہوں تو یہ اِس کا سہرا صرف اور صرف میری والدہ اور میرے چھوٹے بھائی کو جاتا ہے جنھوں نے دل کھول کر میری حوصلہ افزئی کی ناکہ اپنی من مرضی مجھ پر مسلط کرکے میرے کئیریر میں کسی قسم کی دخل اندازی کی ۔شبنم کا کہنا تھا کہ بے شک سوسائٹی میں ایسے بھی افراد ہوتے ہیں جن کا کام یہی ہوتا کہ ہر کام میں کیڑے نکالتے ہیں لیکن ہمیں ایسے لوگوں کا مقابلہ کرنا چاہیے اور اپنے کام پر مکمل دھیان دینا چاہیے ہمارا کام ہی اُن کے ہر سوال کا جواب بن سکتا ہے اور جب ہم اپنے کام پر مکمل توجہ مرکوز کر کے اپنے طے شدہ منزل پر پہنچے جائیں تو اُس وہی لوگ کل ہمارے کام کو سراہائے بغیر خاموش نہیں رہ سکیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ انسان اپنے کام میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرے۔شبنم کا کہنا ہے کہ عاقب راشد خان نامی اُس کا ایک ہم جماعت ہے جس نے الیکٹریشن میں ایم ٹیک کیا نے ایک ٹیم تیار کی ہے اور عاقب نے اُس ٹیم کا حصہ مجھے بھی بنایا ہے اور میں اپنی ٹیم کیساتھ کام کرتے ہوئے خود کو محفوظ سمجھ رہی ہوں لہٰذا خاص طور پر لڑکیوں کو ہر فیلڈ میں اپنی قسمت آزمائی کرنی چاہیے کوئی بھی فیلڈ لڑکیوں کیلئے غیر محفوظ نہیں ہوتا ہے بس کچھ غلیظ ذہنیت کے لوگ ہر فیلڈ میں ہوتےہیں جو ہر فیلڈ کو اپنی ناکارہ حرکات سے میلا کر لیتے ہیں لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ ایسے عناصر کا مقابلہ کرنے کیلئے تمام شعبہ جات میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کی جائے اور اُن گندے عناصر کو اکھاڑ کر باہر پھینک دیا جائے ۔عاقب راشد خان نے بتایا کہ “میں نے ٹکنالوجی (ایم ٹیک) میں ماسٹرز کیا ہے۔ میری رائے ہے کہ انجینئرز اختراعی ہیں اور انہیں محدوددائرے سے باہرہوکر سوچنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ابتداء میں ، میں سول سروسز کی تیاری کر رہا تھا لیکن کچھ مہینوں کے بعد میں نے اپنا ارادہ بدل لیا اور اپنے شعبے میں کچھ کرنے کا سوچا’’انہوں نے مزید کہا کہ اس کام کے لیے انہیں اپنی ایک ٹیم بنانے کا خیال آیا اور اس نے ہم جماعت بہن انجینئر شبنم کے ساتھ مل کر ایک ٹیم بنائی جو صوبہ کے مختلف علاقوں میں کام کر رہی ہے ،عاقب نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی جموں کے سنجوان میں بی این کالج کے قریب اپنا دفتر کھولنے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ “ہم جلد ہی اپنی ویب سائٹ بھی لانچ کرنے جا رہے ہیں اور کوئی بھی ہماری خدمات حاصل کرنے کے لیے آن لائیں ہم سے رابطہ کر سکتا ہے ۔